کولکاتہ، 18؍اپریل (ایس او نیوز؍ایجنسی) مغربی بنگال میں ہوئے ضمنی انتخابات میں بھی بی جے پی کی شرمناک شکست کے بعد ریاستی بی جے پی میں بھگدڑ مچ گئی ہے۔ پتہ چلا ہے کہ نتائج سامنے آنے کے بعد ریاستی بی جے پی کے تین لیڈروں نے استعفیٰ دے دیا ہے۔بتایا گیا ہے کہ ایک طرف مرشد آباد سے رکن اسمبلی گوری شنکر گھوش نے بی جے پی ریاستی یونٹ کے جنرل سکریٹری کے عہدہ سے استعفیٰ دے دیا ہے تو ریاستی ایگزیکٹیو کے اراکین بانی گانگولی اور دیپانکر چودھری نے بھی استعفیٰ نامہ پارٹی کو سونپ دیا ہے جس کے بعد ہلچل تیز ہو گئی ہے۔
بی جے پی سے استعفیٰ دینے والے تینوں لیڈروں نے الزام عائد کیا ہے کہ سیاسی ایشوز پر پارٹی کے ذریعہ پالیسی پر مبنی فیصلے لیتے وقت ان کو نظر انداز کیا گیا۔ یہ واقعہ ریاست میں دو ضمنی انتخابات میں برسراقتدار ترنمول کانگریس کی جیت کے ایک دن بعد سامنے آیا۔ آسنسول لوک سبھا سیٹ پر شتروگھن سنہا نے بی جے پی کی اگنی مترا پال کو بڑے فرق سے ہرایا۔ دوسری طرف بابل سپریو نے بالی گنج میں سی پی ایم کی سائرہ شاہ حلیم کو شکست دی۔
گوری شنکر گھوش نے اپنے استعفیٰ میں کہا کہ بی جے پی کی ریاستی اور ضلع کمیٹیاں تنظیمی کمزوریوں کو دور کرنے میں ناکام رہی ہیں، جو حال کے سبھی انتخابات میں ہماری خراب کارکردگی کے اہم اسباب تھے۔ ریاستی بی جے پی کے تین لیڈروں کے استعفیٰ پر بی جے پی کے قومی جنرل سکریٹری انوپم ہاجرا نے اتوار کو کہا کہ پارٹی کی مغربی بنگال قیادت کو ریاستی کمیٹی کے تین اراکین کے استعفے کے پیچھے کی وجوہات کا جائزہ اور محاسبہ کرنا چاہیے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ کیا سینئر لیڈر فیصلے لینے والی کمیٹی میں اب بہتر محسوس نہیں کر رہے ہیں۔ ہاجرا نے یہ بھی کہا کہ گوری شنکر گھوش اچھی تنظیمی صلاحیت رکھنے والے لیڈر ہیں۔ انھوں نے ریاست میں بی جے پی کا پرچم بلند کیا ہے۔ ہاجرا نے کہا کہ حالانکہ ان کے جیسے لوگوں کی اب ریاستی کمیٹی کا حصہ بننے میں کوئی دلچسپی کیوں نہیں ہے، اس تعلق سے جائزہ لیا جانا چاہیے۔